9 اگست 2026 - 16:16
عراق میں اسلحہ جمع کرنے کی مہم؛ عراقی رہنما نے اسے امریکی۔اسرائیلی سازش قرار دے دیا

عراق کے رکنِ رابطہ کاری فریم ورک علی الزبیدی نے کہا ہے کہ ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی مرکزیت کا منصوبہ تمام مسلح تنظیموں، بشمول پیشمرگہ اور نینویٰ گارڈز، پر لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حشد الشعبی ایک باقاعدہ سرکاری سکیورٹی ادارہ ہے اور اس کا اسلحہ ریاست کے دائرۂ اختیار سے باہر نہیں ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے رابطہ کاری فریم ورک کے رکن علی الزبیدی نے خبر رساں ادارے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی مرکزیت اور تمام مسلح تنظیموں کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

علی الزبیدی نے کہا کہ اسلحہ صرف ریاست کے پاس رکھنے کا منصوبہ تمام مسلح تنظیموں، بالخصوص پیشمرگہ اور نینویٰ گارڈز، پر لاگو ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حشد الشعبی کا اسلحہ ریاست کے اختیار سے باہر قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک باقاعدہ سرکاری سکیورٹی ادارہ ہے اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے احکامات کا پابند ہے۔

عراقی رہنما نے سوال اٹھایا کہ پیشمرگہ، بعشیقہ کے زلیکان کیمپ میں ترک فوج کے ساتھ موجود نینویٰ گارڈز اور سنجار میں تعینات کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کو ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی مرکزیت کے اقدامات میں کیوں شامل نہیں کیا جا رہا؟

انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کے پاس ایسا اسلحہ موجود ہے جو ریاستی دائرۂ اختیار سے باہر ہے اور وہ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے احکامات کے پابند نہیں ہیں، جبکہ حشد الشعبی ایک سرکاری سکیورٹی ادارہ ہے جو اعلیٰ فوجی کمان کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔

علی الزبیدی نے مزید کہا کہ اسلحہ حوالے کرنے کا منصوبہ ایک امریکی۔اسرائیلی سازش ہے جس کا مقصد عراق کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔

انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی اور شام میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے اس منصوبے کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل عراق میں حشد الشعبی اور مزاحمتی قوتوں کے اسلحے کی موجودگی کے باعث اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے ہیں۔

عراقی رکنِ رابطہ کاری فریم ورک نے زور دیا کہ اسلحے کے معاملے سے نمٹنے کے لیے یکساں معیار اپنایا جائے اور ریاست کے اختیار سے باہر موجود تمام مسلح گروہوں کو اس دائرے میں شامل کیا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha